ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / حکومت کی کارکردگی پر ایس ایم کرشنا کی نکتہ چینی ،وزیراعلیٰ سدرامیا سابق وزیراعلیٰ کے تبصرہ پر سخت برہم

حکومت کی کارکردگی پر ایس ایم کرشنا کی نکتہ چینی ،وزیراعلیٰ سدرامیا سابق وزیراعلیٰ کے تبصرہ پر سخت برہم

Wed, 05 Apr 2017 01:06:54    S.O. News Service

بنگلورو:4/اپریل(ایس او  نیوز) وزیر اعلیٰ سدرامیا نے سابق وزیراعلیٰ اور بی جے پی لیڈر ایس ایم کرشنا کے اس بیان پر کہ پچھلے 45 سال میں سدرامیا کی سب سے بدترین حکومت کا مشاہدہ اب کیا جارہاہے، سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ ایس ایم کرشنا پہلے اپنے دور اقتدار کے انتظامیہ پر نظر ڈالیں اور بعد میں موجودہ حکومت کی کارکردگی پر تبصرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایم کرشنا ایک بزرگ سیاستدان ہیں، اسی لئے انہیں توقع ہے کہ وہ پوری ذمہ داری کے ساتھ بیان بازی کریں گے۔انتخابی میدان میں سستی شہرت کیلئے بیان بازی کرنے کی نیچ سیاست کی توقع ایس ایم کرشنا سے نہیں کی جاسکتی۔ پھر بھی اگر ایس ایم کرشنا کا یہی خیال ہے کہ ریاست میں کانگریس حکومت کی کارکردگی اچھی نہیں ہے تو پھر پتہ نہیں پندرہ دنوں کے اندر بی جے پی نے ان پر ایسا کونسا جادو کردیا کہ ان کا رویہ اتنی جلد تبدیل ہوچکا ہے۔ننجنگڈھ اسمبلی حلقہ میں زبردست انتخابی مہم چلاتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے اخباری نمائندوں کو بتایاکہ جب ریاست میں ایس ایم کرشنا کی حکومت 2004 میں بے دخل ہوئی تو 30و زراء انتخابات ہار گئے، کانگریس اراکین اسمبلی کی تعداد 140 سے گھٹ کر 60ہوگئی۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ ریاست میں ایس ایم کرشنا نے کتنی اچھی حکومت چلائی ہے، ایس ایم کرشنا کو چاہئے کہ ایک بار ان تمام واقعات کی یاددہانی کرلیں اور پھر دوسروں پر انگلی اٹھائیں۔ انہوں نے کہاکہ ننجنگڈھ اور گنڈل پیٹ دونوں حلقوں میں عوام کا رجحان مکمل طور پر کانگریس کی طرف ہے، اسی لئے بی جے پی اور اس کے لیڈر اس طرح کی نچلی سیاست پر اتر آئے ہیں، دونوں حلقوں کے ہر دیہات میں ووٹروں میں جو ش وخروش دیکھا جا رہا ہے۔ اس جوش وخروش کو دیکھ کر انہیں توقع ہے کہ دونوں حلقوں میں کانگریس ہی اقتدار پر آئے گی۔وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اس انتخابی مہم کے دوران وہ کسی پر ذاتی نکتہ چینی نہیں کریں گے۔ پچھلے چار سال سے ریاستی حکومت نے عوام کی فلاح وبہبود کیلئے جو محنت کی ہے عوام سے وہ صرف اس کی اجرت طلب کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت نے گزشتہ چار سال کے دوران ریاست کی ترقی کیلئے بہت سارے کام مکمل کرلئے ہیں اور عوام میں ان کو قبولیت ملی ہے۔ کسان، پسماندہ طبقات، دلتوں، اقلیتوں اور دیگر غرباء کی فلاح وبہبود کیلئے ذات پات اور مذہبی بنیادوں سے بالاتر ہوکر حکومت نے عوام کو مشکلات سے نکالنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریاست میں سنگین خشک سالی کی صورتحال میں بھی حکومت کسانوں کی فلاح وبہبود کیلئے کوشاں رہی ہے۔بجٹ میں کئی منصوبوں کا اعلان کیاگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کی طرف سے کرناٹک کو زیادہ گرانٹ نہ ملنے کے باوجود اپنے طور پر حکومت نے ہر طبقے کی ترقی یقینی بنانے کا اپنا فریضہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان انتخابات میں ہی نہیں بلکہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں بھی ریاستی حکومت کے ترقیاتی منصوبے اور ان کی تکمیل ہی عوام کے اعتماد کے ضامن ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے سماج میں امن وامان برقرار رکھا، اور ترقی کی جانب ریاست کو گامزن کرنے میں غیر معمولی سبقت حاصل کی۔ انہوں نے کہاکہ اس حلقہ کے عوام پر ضمنی انتخابات مسلط کرنے کیلئے کانگریس ذمہ دار نہیں۔ انہوں نے بتایاکہ خود داری کا بہانہ بناکر سرینواس پرساد نے کانگریس سے استعفیٰ دے دیا، لیکن وہ ان سے پوچھنا چاہیں گے کہ پچھلے آٹھ سال سے انہوں نے اپنے حلقے کی ترقی کیلئے کیاکیا ہے۔یہاں آکر ان کی خودداری کیوں ناکام ہوجاتی ہے؟۔ انہوں نے کہاکہ سرینواس پرساد کے استعفیٰ کے بعد وزیر برائے تعمیرات عامہ ڈاکٹر ایچ سی مہادیوپا نے اس حلقہ کی ذمہ داری لی اور وہ مسلسل یہاں کے ترقیاتی کاموں کو انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس نے اس حلقہ میں ایسے امیدوار کو میدان میں اتارا ہے جو عوام کے درمیان رہتا ہے، بی جے پی امیدوار وی سرینواس پرساد تک عوام کو کبھی رسائی نہیں ہوسکی۔ پچھلے انتخابات میں بھی عوام نے انہیں کامیاب بنایا، لیکن بدقسمتی سے وہ عوام کی امنگوں کو پورا نہیں کرپائے۔ اب کانگریس نے کللے کرشنا مورتی کو اس لئے میدا ن میں اتارا ہے کہ حلقہ کے عوام سے ان کا رابطہ راست ہے۔ بی جے پی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے سدرامیانے کہا کہ عوام سے ووٹ مانگنے کا اس پارٹی کو کوئی حق نہیں ہے۔پچھلی بار اقتدار پر رہتے ہوئے بی جے پی نے ریاست میں کھلے عام لوٹ مچا رکھی تھی۔انہوں نے کہاکہ کانگریس پارٹی اس ملک کے بالخصوص ریاست کرناٹک کے عوام سے راست طور پر جڑی ہوئی ہے، عوام کی فلاح وبہبود کیلئے انا بھاگیہ اسکیم کے تحت غریبوں کو سات کلو چاول مفت دیاجارہاہے، کسانوں کو مشکلات سے نکالنے کیلئے فی لیٹر دودھ پر پانچ روپیوں کی تائیدی قیمت اور تین لاکھ روپیوں تک کا بلاسودی قرضہ دیاجارہاہے۔وزیر اعلیٰ نے حلقہ کے مختلف دیہاتوں کا دورہ کیا اور ووٹروں سے پارٹی امیدوار کے حق میں ووٹ کی اپیل کی۔ 


Share: